Analytical study of the interpretive services of selected scholars of Mardan district

Authors

  • IJAZ AFZAL Department of Islamic studies, Abdul Wali Khan University Mardan
  • Prof. NIAZ MUHAMMAD Department of Islamic studies, Abdul Wali Khan University Mardan
  • IMRAN AHMAD Department of Islamic studies, Abdul Wali Khan University Mardan

Abstract

When the religion of Islam came out of the borders of the Arabs and entered the land of non-Arab nations, so they also needed to understand the message of the Holy Quran. So they interpreted Holy Quran into their languages. Because the Holy Quran is the first source of the law in Islam. It is not possible to comply with the provisions of the Holy Quran without understanding it۔ Due to these reasons many scholars translated and interpreted the Holy Quran into their own languages. District Mardan has of great importance to scholars and religious services, Here are experts in various sciences and arts, some of the interpreters of the Mardan are those who have earned reputation in the interpretation of the Holy Quran but they have not written any books in this art. And some are those who have written books in this art. Some of them have written books in Pashto language and some of them in Urdu language. In this article, some of these selected interpreters and their services will be reviewed. The reason for selecting the commentaries of these three scholars is that our common tradition is to refer to the commentaries of scholars from Punjab, Sindh or India outside Khyber Pakhtunkhwa for the study of tafsir or preparation of teaching tafsir. The result is that the commentaries of the scholars of this region disappear after the expiration of an edition or the commentaries that have been published once end up rotting in libraries waiting for their readers. If there is no reader, then obviously the publisher will also perish. By getting acquainted with the methodology and features of these selected commentaries in the article under review, it is hoped that scholars in particular and the general public in general will be attracted to benefit from them

References

مردان صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے 64 کلومیٹر دورشمال مشرق میں واقع ضلع ہے۔یہ ضلع اپنے دامن میں ماضی کی کئی داستانیں رکھتاہے۔پشاور سے 1937ء میں الگ ہوا۔تخت بھائی،جمال گڑھی اور شہباز گڑھی میں قدیم آثار پائے جاتے ہیں۔[ڈسٹرکٹ سنسس رپورٹ،ص: 9 ۔ 11،مردان 1972ء]

ابن ابی شیبہ، ابو بكر عبد الله بن محمد ،مصنف ابن ابی شیبة،( رياض:مکتبۃ الرشد، طبع اول، سن 1409ھ)،باب: فِي الْجَمَاعَةِ كَمْ هِيَ؟ ج: 2، ص: 264، حدیث :8813

یہ پاکستان کے شمالی مغربی حصے میں واقع صوبہ ہے۔ اس کو شمالی مغربی سرحدی صوبہ(N.W.F.P) اور صوبہ سرحد کے نام سے یاد کیاجاتاتھا۔رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جب کہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے۔اس کا شمالی حصہ سرسبز و شاداب ہے جہاں سیر و تفریح کےلئے لوگ آتے ہیں۔گرمائی صدر مقام ایبٹ آباد اور سرمائی صدر مقام پشاور ہےاور اکثر یت آبادی کی زبان پشتوہے۔

پنج اور آب سے مرکب ہے یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین۔ اس صوبے میں دریائے بیاس، جہلم،چناب،راوی اورستلج بہتے ہیں۔پنجاب کے جنوب میں سندھ، مغرب میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان،شمال میں اسلام آباد اور کشمیراور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان واقع ہیں۔اس کا دارالحکومت لاہور ہے۔[ اردودائرہ معارف اسلامیہ،(لاہور: دانش گاہ پنجاب،بار اول،ستمبر 1989)،ج:5،ص:665]

سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی صوبہ ہے۔ اس شمال و مغرب میں پنجاب اور بلوچستان ہیں اور مشرق وجنوب میں ہندوستانی علاقے سے گھراہواہے۔جنوب مغرب میں بحیرہ عرب ہے۔یہ دریائے سندھ کا ڈیلٹائی علاقہ ہے۔اس کو وادی مہران بھی کہاجاتاہے۔اس صوبہ کی تشکیل یکم جولائی 1970ء کوہوئی۔اس کا دارالحکومت کراچی ہے۔[ اردودائرہ معارف اسلامیہ،ج:11،ص:329]

قدیم مصر کے مسلمان جغرافیہ دان "ہند" کو سندھ کے مشرقی علاقوں کےلئے استعمال کرتے تھے۔اور عربوں نے سندھ کو سندھ ہی کہا البتہ اس کے علاوہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کو ہند کہاجو فرنچ میں "اند"اور انگریزی میں Indiaبنا۔ہندوستان میں موجودہ بھارت،بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے ۔1947ء کے بعد صرف بھارت ہی ہندوستان رہ گیا۔ہند اور سند توقیر بن یقطن بن حام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے دو بھائی تھے۔[ قزوینی،زکریابن محمد،آثار البلاد و أخبار العباد،(بیروت: دارصادر،س،ن)،ص:127۔۔۔اردودائرہ معارف اسلامیہ،ج:23،ص:173]

محمد علی خان مرحوم ضلع مردان کی معروف شخصیت ہے۔مردان میں "قصر گلستان" کے نام پر آپ کا مکان ہے۔

حافظ محمد ادریس، کشاف القرآن،(پشاور: یونیورسٹی بک ایجنسی،طبع دوم،1995ء)،ج:1، ص:ت

میاں فضل منان،مقدمہ کشاف القرآن،ج:2،ص:ا،ب

اس بارے میں تفصیل مطلوب ہو تو دیکھئے ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم شرف الدین،" قرآن حکیم کے اردو تراجم" باب سوم،کیا قرآن کا ترجمہ ممکن ہے؟ ص:69،قدیمی کتب خانہ، کراچی، طبع و تاریخ ندارد

اشرف علی بن عبد الحق ہندوستان ، ضلع مظفر نگر کے قصبہ تھانہ بھون میں 1280ھ (بمطابق 1863ء) کو پیداہوئے۔حافظ حسین علی سےحفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے بعد مولانا فتح محمد تھانوی سےتھانہ بھون میں عربی وفارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور دارالعلوم دیوبندسے 1299ھ کو تعلیم کی تکمیل کی۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ﷫ سے بیعت کی۔کثیر التصانیف مصنف تھے۔16رجب1362ھ (بمطابق 1943ء )کو وفات ہوئے۔[سید محبوب رضوی،تاريخ دارالعلوم ديوبند،(لاہور: المیزان ناشران و تاجران کتب،2005ء)ج:2،ص:51]

مولانا ابو الاعلی مودودی 3 رجب 1321ھ=25 ستمبر 1903ء کو اورنگ آباد، دکن میں پیداہوئے۔ میٹرک کے بعد مولوی کا امتحان پاس کیا۔1345ھ= 1927ء میں مولانا اشفاق احمد کاندہلویؒ سے حدیث، فقہ اور ادب میں سند حاصل کی اور جامع ترمذی اور مؤطا امام مالک کی سمع و قراءت کی۔ 3 شعبان 1360ھ= 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔قیام پاکستان کے بعد لاہور میں قیام پذیر ہوئے۔1953ء میں "قادیانی مسئلہ" پر فوجی عدالت نے انھیں سزائے موت کا حکم نامہ جاری کیا جو احتجاج کے بعد عمر قید اور پھر تین سال بعد رہائی میں بدل گیا۔تصنیف و تالیف میں اپنی مثال آپ تھے۔تفسیر تفہیم القرآن کے مصنف اور فیصل ایوارڈ یافتہ ہیں۔3 ذی قعدہ 1399ھ= 25 ستمبر 1979ء کو وفات ہوئے۔[سید قاسم محمود،شاہ کار اسلامی انسائیکلوپیڈیا،(لاہور:الفیصل ، تاریخ ندارد)،ج:1، ص:106]

یوسف بن مَنْدبن شخی بن کَنْدبن خرشبون بن سڑبن، یوسف کے پانچ بیٹے تھے: عیسیٰ، موسیٰ،مالی ،اکّواور اوریا۔یوسف کی اولاد یوسف زئی کہلاتی ہے ۔اس کی مختلف شاخیں سوات،بونیر،دیر، مردان اور دیگر علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔[منشی گوپال داس،تاریخ پشاور،(لاہور:گلوب پبلشرز،طبع و تاریخ ندارد)،باب دوم،ص: 228]

حافظ محمد ادریس، کشاف القرآن، ج: 1، ص: 35

حافظ محمد ادریس، کشاف القرآن، ج: 1، ص:ت

شیخ الہند محمود حسن بن مولانا ذوالفقارعلی کی پیدائش 1268ھ = 1851ء کو بریلی میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا مہتاب علی سے حاصل کی۔قدوری اور شرح تہذیب پڑھ رہے تھے کہ دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ۔آپ اس میں داخل ہوئے۔1290ھ= 1873ء کو مولانا محمد قاسم نانوتوی سے دستار فضیلت حاصل کی۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ﷫ سےخلافت حاصل تھی۔ شیخ الہند کے فیض تعلیم نے نامورعلماء کی جماعت تیار کی۔برطانوی اقتدار کے خاتمہ کی اسکیم بنائی جس پر والی مکہ شریف حسین نے گرفتار کرکے انگریز کے حوالہ کیا۔مالٹا میں قید کیے گئے۔1338ھ= 1920ء کو رہائی ملی۔آپ نے شد و مد کے ساتھ سیاسی کاموں میں حصہ لیا۔18 ربیع الاول 1339ھ = 1921ء کو وفات ہوئے۔ [سید محبوب رضوی،تاريخ دارالعلوم ديوبند،ج:2،ص:33]

مجلہ اسوہ حسنہ کراچی، جنوری 2015ء،۔۔۔ "د شیخ القرآن صاحب د زندګئی مختصر حالات" از فیض الرحمٰن بن مولانا فضل الرحمٰن، گنجئ، تخت بھائی، مردان

ابو زکریا عبدالسلام، مقدمہ تفسیر القرآن الکریم،(لاہور: دار السلام،پہلا ایڈیشن، نومبر2002ء)،ص:10

Downloads

Published

2019-08-26

How to Cite

AFZAL, I., MUHAMMAD, P. N., & AHMAD, I. (2019). Analytical study of the interpretive services of selected scholars of Mardan district. VFAST Transactions on Islamic Research, 7(1), 41–53. Retrieved from https://vfast.org/journals/index.php/VTIR/article/view/562